19 اپریل 2012 - 19:30

سعودي عرب کے مشرقي علاقوں ميں مظاہرين پر آل سعود کے فوجيوں کي فائرنگ کي نئي تصاوير جاري ہوئي ہيں۔

ابنا: يہ تصاوير مشرقي علاقوں کے سياسي کارکنوں نے جاري کي ہيں جن ميں دکھايا گيا ہے کہ آل سعود کے فوجي پر امن مظاہرين پر جنگي گولياں چلا رہے ہيں۔

 دوسري طرف ايک بين الاقوامي قانونداں فرينکلن ليمب نے پريس ٹي وي سے انٹرويو ميں کہا ہے کہ سعودي فوجي اپنے ملک ميں عوام کي سرکوبي ميں صہیوني ریاست کے فوجيوں کے طريقے سے کام لے رہے ہيں ۔انہوں نے کہا کہ سعودي فوجي مخالفين کو ايذائيں دينے ميں بھي اسرائيلي روش سے کام ليتے ہيں۔فرينکلن ليمب نے کہا کہ سعودي سيکورٹي اہلکار صہیوني ریاست کے کارندوں کي طرح کوشش کرتے ہيں کہ جيلوں ميں قيديوں کو اس طرح ايذائيں ديں کہ ان کے جسم پر ايذا رساني کا کوئي نشان باقي نہ رہے۔

 مشرق وسطي ميں اسلامي بيداري کي لہر شروع ہونے کے ساتھ ہي سعودي عرب کے مشرقي علاقوں کے عوام نے بھي آل سعود کے خلاف پر امن مظاہرے شروع کئے ہيں جنہيں آل سعود کے سيکورٹي اہلکاروں نے تشدد سے کام ليکر کچلنے کي کوشش کي ہے - اس دوران سعودي سيکورٹي اہلکاروں کے ہاتھوں دسيوں عام شہري شہيد اور زخمي ہوئے ہيں جبکہ بہت سے سياسي کارکنوں کو گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کرديا گيا ہے۔.......

/169